ابنا: صدر جناب احمدی نژاد نے حزب اللہ لبنان کے ٹی وی چینل المنار کو دئے گئے انٹرویو میں علاقے کی حکومتوں اور قوموں کو تسلط پسندوں کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی تلقین کی۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت کو علاقے میں ہمیشہ بدامنی جاری رکھنے کی ذمہ داری دی گئي ہے تاکہ اس طرح علاقے میں سامراجیوں کی مداخلت کی زمین ہموار ہوتی رہے۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی میں فلسطینی کاز اور مزاحمت کی حمایت ہمیشہ شامل رہے گي۔ انہوں نے شام کے حالات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ مغربی ممالک چاہتے ہیں کہ شام بھی لیبیا کے انجام کو پہنچے لھذا شام کے عوام کو ہوشیار اور متحد رہنا چاہیے اور ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مسائل حل کرنے چاہئیں اور جو اصلاحات ضروری ہیں انہیں انجام دیں۔ انہوں نے بحرین کے حالات کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی طرف اشارہ کرتےہوئے عوام کے خلاف تشدد کے استعمال کے روکے جانے کی ضرورت پر تاکید کی۔ صدر جناب احمدی نژاد نے کہا کہ تمام مسائل کو تشدد اور فوج کے بل پر حل نہیں کیا جاسکتا اور یہ کہ سب کو اسلامی ملکوں کے خلاف مغربی سازشوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔.............
/169